کراچی کی زمین پہ چلنے والے تین بڑے مقدمات۔

By Admin - June 25,19


رئیل اسٹیٹ کے بڑھتے ہوئے کاروبار کا اندازہ اخبارات میں بڑی تعداد میں شائع ہونے والے جایئداد کے خریدوفروخت کے اشتہارات سے لگایا جا سکتا ہے۔ خاص کر آپ ہر اتوار کو آنے والے اداریہ صفحات دیکھ لیجیئے آپ کو ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجہان کا صحیح اندازہ ہو جایئگا۔ لیکن جہاں اس کے مفید اثرات ہیں وہیں اس کے کچھ منفی اثرات بھی موجود ہیں۔ چوں کہ اس شعبہ میں بہت زیادہ پیسوں کی آمدورفت ہے،کچھ لوگوں نے اس سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو غیر قانونی اراضی کے جھانسوں میں پھانسا ہے۔ اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے گذشتہ سال ناجائزتجاوزات کے ساتھ انہدامی کاروائی کا آغازکیا گیا جسکا سہرا عدالت عظمی کو جاتا ہے۔
اس مضمون میں ہم بات کریں گے کراچی میں گزشتہ کئی روز سے جاری تین اہم موضوعات سے متعلق چند عدالتی احکامات کے بارے میں۔
بحریہ ٹاؤن 
اب بھلا ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن سے کون واقف نہیں ،بحریہ ٹاؤن کراچی میں بننے والا سب سے بڑا اور مشہور رہائشی منصوبہ ہے۔ گزشتہ سال مئی کے مہینے میں سپریم کورٹ کی جانب سے ہونے والے انکشاف میں یہ بات واضح ہوئی کہ ایم۔ڈیَ۔اے کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کو دی جانے والی زمین غیر قانونی ہے۔۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ اگر بحریہ ٹاؤن کو زمین دینی ہی ہے تو نئے سرے سے معاہدہ کیا جائے تا کہ رقم کے حصول کو ممکن بنایا جاسکے۔کہا یہ بھی گیا کہ اگر بحریہ ٹاؤن یہ رقم جمع نہ کراسکا تو تمام تر زمین ضبط کر کے حکومت پاکستان کہ حوالے کر دی جائے گی۔ خیال یہ رہے کہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو پہلی سماعت پر ہی تمام تر دستاویزات کو جمع کرانے پر پابند کیاجس کی عدم پیروی کی بنا پر عدالت نے تین رکنی بینچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس بینچ کی صدارت جسٹس عظمت سعید شیخ کر رہے ہیں ۔ اس بینچ کا کام ۴مئی کو آنے والے تمام تر عدالتی احکامات کا نفاذہے۔
جسٹس عظمت سعید شیخ کی زیر صدارت اس تین رکنی بینچ کی جانب سے پہلی ہیئرنگ ۱۶ اکتوبر، دوسری ۱۴نومبر اور تیسری۲۲ نومبر کو ہوئی۔ آخری سماعت میں ملک ریاض کے وکیل کی جانب سے تمام تر احکامات کی پیروی کی یقین دہانی کرائی گئی جس کو سننے کے بعد عدالت نے سوال کیا کہ کیا بحریہ ٹاؤن کی زمین کی قیمت کاذکر کیا گیا ہے؟ منفی جواب کے رد عمل میں عدالت نے غیر مطمئنی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر عدالت بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مطمئن نہ ہوئی تو تمام تر رپورٹ اور دستاویزات کا فرانسک آڈٹ کرایا جائے گیا۔اس کیس میں نیب نے اپنا اہم کردار ادا کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ۲۵ ہزار ۶۰ ایکڑ زمین کی ارضی لی گئی ہے۔اس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کو کل ۲۵ ہزار ۶۰۱ ایکڑ زمین کی اراضی ہے، جسمیں سے ۷ ہزار ۲۲۰ایکڑ غیر قانونی طور پر ۲۰۱۵ میں بحریہ ٹاؤن کو منتقل ہوئی۔اس کے جواب میں بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے کہا کہ یہ زمین جالی نہیں ہے۔ عدالت نے نیب کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنی کاروائی مکمل کر کے جلدازجلد الگ سے ریفرنس دائر کرے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر ریفرنس دائر نہ ہوئے اور عدالت کے احکامات پر غفلت برتی گئی تو عدالت نیب کے خلاف کاروائی کرے گی۔بحریہ ٹاؤن کی سماعت ابھی بھی ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں جاری ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
ناجائز تعمیرات
کراچی گزشتہ دنوں کافی خبروں میں رہا ہے جس کی ایک بڑی اور اہم وجہ سپریم کورٹ کی جانب نے آنے والے احکامات پر پیروی کی صورت میں کراچی میں جاری ناجائز اراضی پر قائم بلڈنگز، پارک ، اور دکانوں کے خلاف انہدامی کاراوائی ہے۔ سپریم کورٹ نے سال ۲۰۱۸ کے اختتمام پر ناجائز تجاوزات کے کیس پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تمام بلڈنگز، پارکس اوردکانوں کو مسمار کر دیا جائے جو کسی بھی زمین پر قبضہ کر کے بنائی گئی ہے۔ اس حکم کا آنا تھا کہ کے۔ڈی۔اے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اٹھارٹی کو عدالت کی جانب سے پابند کیا گیا کہ تمام ناجائز تعمییرات کو مسمار کردیا جائے ۔ جس کے چلتے شہر بھر میں آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ماہرین نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس کاروائی کی صورت میں کراچی اپنی اصل شکل میں واپس آجائے گا۔ اب تک صدر ، گلستان جوہر، گلشن اقبال اور دیگر جگہ پر کافی غیر قانونی بلڈنگز مسمار کر دی گئی ہیں ۔ عدالت نے سرکاری ایجنسیوں کو پابند کیا ہے کہ اس آپریشن کے دوران کسی بھی شخص کے لئے کسی بھی طرح کی کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ 
کراچی کی کثیرالمنزلہ عمارتیں
مارچ۲۰۱۷ میں، سپریم کورٹ نے کراچی میں پینے کے پانی کی عدم موجودگی اور غیر معمولی صفائی کی حالتوں پر ایک مقدمہ سن کر سندھ میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر پابندی لگا دی تھی۔ اس کیس کی سماعت کے نتیجے میں اونچی اور ملٹی اسٹوری تجارتی اور رہائشی منصوبوں کے لئے منظوری کے منصوبوں کی این او سی جاری کرنے سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) اور کینٹینمنٹ بورڈ کو روک دیا تھا ۔مئی ۲۰۱۷ میں، سپریم کورٹ نے منظور کردہ احکامات پر عملدرآمد کرنے والے ایس بی اے نے، عمارتوں اور ڈویلپرز کے ایسوسی ایشن(ABAD) کی طرف سے چیلنج کرنے والے فیصلے سے زمین کے علاوہ ڈبل اسٹوریوں سے باہر کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر مکمل پابندی لگائی تھی۔اس کیس کی سماعت دو رکنی بینچ جس میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی کی زیرصدارت نے کی۔جسٹس فیصل عرب نے اس معضوع پر اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسی طرح کثیر المنزلہ عمارات تعمیر ہوتی رہیں گی تو ایک دن ایسا آئے گا کہ شہرکنکریٹ کے جنگل کا منظر پیش کرنے لگے گا۔عدالت نے اس کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عمارت ۶ منزل سے زیادہ اونچی نہیں بنائی جائے گی۔ عدالت نے اس فیصلے کے ساتھ تمام پرایؤٹ بلڈرز کو پابند کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہر ملٹی اسٹوری بلنڈنگ میں پانی کی فراوانی یقینی بنائی جائے۔خیال یہ رہے کہ اس سے پہلے سرکاری ادارے یہ سمجھ رہے تھے کہ عدالت نے کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کو روکنے کا حکم دیا ہے جس کی وجہ سے تمام نئے منصبوں پر جاری کام کو روک دیا تھا۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے جسٹس ثاقب نثار نے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صرف ۶ منزل سے زیادہ اونچی عمارت تعمیر کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ لکن اس کے کچھ ہی عرصہ بعد پاکستان بھر اور خاص طور پر کراچی کی بلڈرز ایسوسی ایشن آباد اور رئیلٹرز کی جانب سے احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

  

REDBOX

Don't have an account? Register Now

Create an Account

Already a member?