قبضہ مافیا اور حکومتِ وقت میں سرد جنگ کا آغاز۔

By Admin - October 05,18

گزشتہ چند دنوں سے ملک کے دیگر اداروں کی طرح تعمیراتی ادارے بھی بے شمار تبدیلیوں سے دوچار ہوتے نظر آرہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ملک بھر میں قبضہ مافیا کی سر پرستی میں غیر قانونی تعمیرات اپنے عروج پر تھیں اور متعلقہ افسران سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بن کر قبضہ مافیا کی پشت پناہی میں مصروف عمل تھے۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری و ساری تھا کہ اچانک نئی حکومت کے آتے ہی جہاں ملک کے بیشتر اداروں میں تبدیلی آئی وہیں تعمیراتی ادارے بھی اس تبدیلی کی گرفت میں آگئے اور آئے روز ان غیر قانونی تعمیرات کے خلاف اہم اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔

ملک کے دیگر محکموں کی طرح محکمہ بلدیہ عظمیٰ لاہور کی جانب سے شہر بھر میں (پیر)سے ناجائز تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کریک ڈاؤن کاآغاز کر دیا گیا ہے۔بلدیہ عظمٰی کی جانب سے کئے جانے والے اس کریک ڈاؤن میں گھروں، دوکانوں، شاپنگ پلازوں، شاہراؤں اور سرکاری زمینوں پر قائم تجاوزات کو ختم کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ سرکاری اخراجات کی وصولی بطور مالیاتی اداراجات کے تحت بھی کی جائے گی اور پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کے تحت کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 6 ہزار ہاوسنگ سوسائٹیز غیرقانونی قرار دی گئیں ہیں۔ شہر اقتدار میں 12، پنجاب میں 4 ہزار 480، سندہ میں 967، کے پی کے میں 120 بلوچستان میں 221 غیرقانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کام کر رہی ہیں۔
ملک بھر میں غیرقانونی اور گھوسٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تفصیلات سپریم کورٹ میں بھی پیش کر دی گئیں۔
اس ضمن میں قابل غور امر یہ ہے کہ جب ملک میں اتنی بڑی تعداد میں اتنی تیزی سے یہ ناجائز تعمیرات اپنے عروج پر تھیں تب ان متعلقہ افسران نے بر وقت کاروائی کیوں نہیں کی ۔اب ان سوسائیٹیز کے خلاف کاروائی کر کے شہریوں کو ان کی ملکیت سے محروم کر کے ان کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے اپنی جمع پونجی سے ان سوسائیٹیز میں سرمایہ کاری کی اور اب کاروائی کی آڑ میں ان کو ان کے اثاثوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق کیس لاہورہائیکورٹ میں دائر کیا گیا۔
لاہورہائیکورٹ نے پنجاب بھرکی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو قواعد وضوابط کے تابع لا کر ایک ماہ میں قانونی حیثیت دینے کا حکم جاری کردیا۔
جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر درخواست پر اس سلسلے میں چیف سیکرٹری پنجاب کو اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہاؤسنگ سوساٹیز کو غیر قانونی قرار دیکر شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا، درخواست گزارکی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ ایل ڈی اے نے متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیز کو غیر قانونی قرار دے کر ان سے بنیادی سہولتیں چھین لی ہیں،ایل ڈی اے حکام اگر بروقت ایکشن لے لیتے تو غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز بن ہی نہیں سکتی تھیں،عدالت اور ایل ڈی اے قواعد و ضوابط پورے کرنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو قانونی قرار دے۔
ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ایک ماہ میں قانون کے مطابق رجسڑڈ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو مسمار کرنے کے بجائے انہیں قانونی حیثیت دیں، سوساٹیز کو غیر قانونی قرار دے کر شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا،جب سوساٹیز بن رہی تھیں ایل ڈی اے کو اس وقت پوچھنا چاہیے تھا، اب سوساٹیز آباد ہوچکی ہیں لہٰذا شہریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کرنے کے بجائے سوساٹیز مالکان کو قواعد وضوابط پورے کرنے کا کہیں۔ اس پر عدالت نے حکم دیا ہے کہ تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز کو لیگل کرنے کے لئے چیف سیکرٹری پنجاب اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دیں جس پر چیف سیکرٹری نے عدالت میں بیان دیا کہ عدالتی حکم پر من و عن عمل ہوگا اور تمام سوساٹیز مالکان کو اس معاملہ پر نوٹس جاری کیا جائے گا۔ ڈی جی ایل ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ ہم تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مالکان سے مل کر قواعد ضوابط بنالیتے ہیں،عدالت نے آئندہ تاریخ سماعت پر عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی ہے اب شہری ان قوائد وضوابط کے منتظر ہیں جنہیں مد نظر رکھ کر ان کے حقوق کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Don't have an account? Register Now

Create an Account

Already a member?

Post Property

Already a member?

Already a member?